بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا

عرش صدیقی

بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا

عرش صدیقی

MORE BY عرش صدیقی

    بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا

    محمل دل سے نکل سر کو ہوا تازہ لگا

    دیکھ رہ جائے نہ تو خواہش کے گنبد میں اسیر

    گھر بناتا ہے تو سب سے پہلے دروازہ لگا

    ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ

    ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا

    ہر طرف سے آئے گا تیری صداؤں کا جواب

    چپ کے چنگل سے نکل اور ایک آوازہ لگا

    سر اٹھا کر چلنے کی اب یاد بھی باقی نہیں

    میرے جھکنے سے میری ذلت کا اندازہ لگا

    لفظ معنی سے گریزاں ہیں تو ان میں رنگ بھر

    چہرہ ہے بے نور تو اس پر کوئی غازہ لگا

    آج پھر وہ آتے آتے رہ گیا اور آج پھر

    سر بسر بکھرا ہوا ہستی کا شیرازہ لگا

    رحم کھا کر عرشؔ اس نے اس طرف دیکھا مگر

    یہ بھی دل دے بیٹھنے کا مجھ کو خمیازہ لگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY