بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا

ظفر اقبال

بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا

ظفر اقبال

MORE BY ظفر اقبال

    بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا

    شہر کو ہر ذائقے سے آشنا کر جاؤں گا

    تو بھی ڈھونڈے گا مجھے شوق سزا میں ایک دن

    میں بھی کوئی خوبصورت سی خطا کر جاؤں گا

    مجھ سے اچھائی بھی نہ کر میری مرضی کے خلاف

    ورنہ میں بھی ہاتھ کوئی دوسرا کر جاؤں گا

    مجھ میں ہیں گہری اداسی کے جراثیم اس قدر

    میں تجھے بھی اس مرض میں مبتلا کر جاؤں گا

    شور ہے اس گھر کے آنگن میں ظفرؔ کچھ روز اور

    گنبد دل کو کسی دن بے صدا کر جاؤں گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY