بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیں

اعتبار ساجد

بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیں

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیں

    آ مرے دل مرے غم خوار کہیں اور چلیں

    کوئی کھڑکی نہیں کھلتی کسی باغیچے میں

    سانس لینا بھی ہے دشوار کہیں اور چلیں

    تو بھی مغموم ہے میں بھی ہوں بہت افسردہ

    دونوں اس دکھ سے ہیں دو چار کہیں اور چلیں

    ڈھونڈتے ہیں کوئی سر سبز کشادہ سی فضا

    وقت کی دھند کے اس پار کہیں اور چلیں

    یہ جو پھولوں سے بھرا شہر ہوا کرتا تھا

    اس کے منظر ہیں دل آزار کہیں اور چلیں

    ایسے ہنگامہ محشر میں تو دم گھٹتا ہے

    باتیں کچھ کرنی ہیں اس بار کہیں اور چلیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY