بوجھ اٹھائے ہوئے دن رات کہاں تک جاتا

دلاور علی آزر

بوجھ اٹھائے ہوئے دن رات کہاں تک جاتا

دلاور علی آزر

MORE BYدلاور علی آزر

    بوجھ اٹھائے ہوئے دن رات کہاں تک جاتا

    زندگانی میں ترے ساتھ کہاں تک جاتا

    مختصر یہ کہ میں بوسہ بھی غنیمت سمجھا

    یوں بھی دوران ملاقات کہاں تک جاتا

    صبح ہوتے ہی سبھی گھر کو روانہ ہوں گے

    قصۂ دور خرابات کہاں تک جاتا

    تھک گیا تھا میں ترے نام کو جپتے جپتے

    لے کے ہونٹوں پہ یہی بات کہاں تک جاتا

    چاند تارے تو مرے بس میں نہیں ہیں آزرؔ

    پھول لایا ہوں مرا ہاتھ کہاں تک جاتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY