چھوڑ کر مجھ کو کہیں پھر اس نے کچھ سوچا نہ ہو

حکیم منظور

چھوڑ کر مجھ کو کہیں پھر اس نے کچھ سوچا نہ ہو

حکیم منظور

MORE BYحکیم منظور

    چھوڑ کر مجھ کو کہیں پھر اس نے کچھ سوچا نہ ہو

    میں ذرا دیکھوں وہ اگلے موڑ پر ٹھہرا نہ ہو

    میں بھی اک پتھر لیے تھا بزدلوں کی بھیڑ میں

    اور اب یہ ڈر ہے اس نے مجھ کو پہچانا نہ ہو

    ہم کسی بہروپئے کو جان لیں مشکل نہیں

    اس کو کیا پہچانیے جس کا کوئی چہرا نہ ہو

    اس کو الفاظ و معانی کا تصادم کھا گیا

    اب وہ یوں چپ ہے کہ جیسے مدتوں بولا نہ ہو

    دندناتا یوں پھرے ہے شہر کی سڑکوں پہ وہ

    جیسے پورے شہر میں کوئی بھی آئینہ نہ ہو

    لوگ کہتے ہیں ابھی تک ہے وہ سرگرم سفر

    مجھ کو اندیشہ کہیں وہ راہ میں سویا نہ ہو

    مجھ کو اے منظورؔ یوں محسوس ہوتا ہے کبھی

    جیسے سب اپنے ہوں جیسے کوئی بھی اپنا نہ ہو

    مأخذ :
    • کتاب : Natamam (Pg. 101)
    • Author : Hakeem Manzoor
    • مطبع : Samt Publication 2/48 Rajendar Nagar New Delhi-110060 (1977)
    • اشاعت : 1977

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY