چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کے

مبارک عظیم آبادی

چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کے

مبارک عظیم آبادی

MORE BYمبارک عظیم آبادی

    چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کے

    مطلب یہ ہے کہ رکھ دے کلیجہ نکال کے

    واعظ سے بحث بادہ و پیمانہ کیا کروں

    کچھ لوگ رہ گئے ہیں پرانے خیال کے

    سو داغ جن کے لائے ہیں زیر مزار ہم

    احساں جتا رہے ہیں وہ دو پھول ڈال کے

    پھر ڈھونڈھتا ہے دل خلش خار آرزو

    پچھتا رہا ہوں دل سے یہ کانٹا نکال کے

    یہ غم کدہ ہے اس میں مبارکؔ خوشی کہاں

    غم کو خوشی بنا کوئی پہلو نکال کے

    مآخذ:

    • کتاب : intekhaab-e-kalaam (Pg. 33)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY