Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دکھاتی ہے جو یہ دنیا وہ بیٹھا دیکھتا ہوں میں

ارشد جمال صارم

دکھاتی ہے جو یہ دنیا وہ بیٹھا دیکھتا ہوں میں

ارشد جمال صارم

دکھاتی ہے جو یہ دنیا وہ بیٹھا دیکھتا ہوں میں

ہے تف مجھ پر تماشہ بین ہو کر رہ گیا ہوں میں

بس اتنا ربط کافی ہے مجھے اے بھولنے والے

تری سوئی ہوئی آنکھوں میں اکثر جاگتا ہوں میں

نہ کیوں ہوگی مری بار آوری پھر دیکھنے لائق

محبت کی مہکتی خاک میں بویا گیا ہوں میں

مری آبادیوں میں چار سو بکھرا ہے سناٹا

حصار خوف سے چاروں طرف باندھا گیا ہوں میں

رلاتی ہیں مری یادیں ہمیشہ خون کے آنسو

کسی نادار پہ گزرا ہوا اک حادثہ ہوں میں

مسلسل ہی بڑھائی ہیں کسی کی دھڑکنیں میں نے

مسلسل ہی کسی کے ذہن سے سوچا گیا ہوں میں

وراثت ہوں میں اک ڈھلتی ہوئی تہذیب کی صارمؔ

کہیں کھویا گیا ہوں میں کہیں پایا گیا ہوں میں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے