دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو

باصر سلطان کاظمی

دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو

باصر سلطان کاظمی

MORE BYباصر سلطان کاظمی

    دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو

    پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

    صورت حالات ہی پر بات کرنی ہے اگر

    پھر مخاطب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو

    ہے وہی لا حاصلی دست ہنر کی منتظر

    آخرش سر پھوڑتا ہے کوہ کن کوئی بھی ہو

    شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصرؔ کا نشاں

    ڈھونڈتے ہیں ہم اسے بزم سخن کوئی بھی ہو

    عادتیں اور حاجتیں باصرؔ بدلتی ہیں کہاں

    رقص بن رہتا نہیں طاؤس بن کوئی بھی ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY