دل وہی اشک بار رہتا ہے

ابن مفتی

دل وہی اشک بار رہتا ہے

ابن مفتی

MORE BYابن مفتی

    دل وہی اشک بار رہتا ہے

    غم سے جو ہمکنار رہتا ہے

    میں نے دیکھا خرد کے کاندھوں پر

    اک جنوں سا سوار رہتا ہے

    لب تبسم میں ہو گئے مشاق

    دل مگر سوگوار رہتا ہے

    ایک لمحے بھی سوچ لوں ان کو

    مدتوں اک خمار رہتا ہے

    دل رہے بے کلی کے گھیرے میں

    ذہن پہ تو سوار رہتا ہے

    تیرے خوابوں کی لت لگی جب سے

    رات کا انتظار رہتا ہے

    سچ کے دھاگے سے جو بنے رشتہ

    عمر بھر استوار رہتا ہے

    تیرے دل نے بھی پڑھ لیا کلمہ

    جس میں یہ گنہ گار رہتا ہے

    جب سے جوڑا ہے آپ سے رشتہ

    دامن تار، تار رہتا ہے

    وہ تصور میں اک گھڑی آئیں

    دیر تک دل بہار رہتا ہے

    چاند سے اس لئے ہے پیار مجھے

    یہ بھی یاروں کا یار رہتا ہے

    گھر میں آتے ہی مہ جبیں نے کہا

    یاں تو اختر شمار رہتا ہے

    اب تو کر ڈالیے وفا اس کو

    وہ جو وعدہ ادھار رہتا ہے

    اک طرف گردشیں زمانے کی

    اک طرف تیرا پیار رہتا ہے

    ترے در سے جڑا ہوا مفلس

    عشق میں مال دار رہتا ہے

    ماں نے دے دی دعا تو حشر تلک

    اس کا باندھا حصار رہتا ہے

    دل میں سجدے کیا کرو مفتیؔ

    اس میں پروردگار رہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY