دعا ہی وجہ کرامات تھوڑی ہوتی ہے

حجاب عباسی

دعا ہی وجہ کرامات تھوڑی ہوتی ہے

حجاب عباسی

MORE BYحجاب عباسی

    دعا ہی وجہ کرامات تھوڑی ہوتی ہے

    غضب کی دھوپ میں برسات تھوڑی ہوتی ہے

    رہ وفا کی روایت ہے سر جھکا رکھنا

    بساط عشق پہ یہ مات تھوڑی ہوتی ہے

    جو اپنا نام صف معتبر میں لکھتے ہیں

    خود ان سے اپنی ملاقات تھوڑی ہوتی ہے

    بہت سے راز دلوں کے دلوں میں رہتے ہیں

    اسے بتانے کی ہر بات تھوڑی ہوتی ہے

    دل و نظر میں جو بس جائے دل ربا ٹھہرے

    کہ دل ربائی کوئی ذات تھوڑی ہوتی ہے

    حجابؔ اہل جنوں میں شمار ہونے کی

    اساس عزت سادات تھوڑی ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY