دور افق کے پار سے آواز کے پروردگار

عادل منصوری

دور افق کے پار سے آواز کے پروردگار

عادل منصوری

MORE BYعادل منصوری

    دور افق کے پار سے آواز کے پروردگار

    صدیوں سوئی خامشی کو سامنے آ کر پکار

    جانے کن ہاتھوں نے کھیلا رات ساحل پر شکار

    شیر کی آواز کو ترسا کئے سونے کچھار

    خواب کے سوکھے ہوئے خاکوں میں لذت کا غبار

    نیند کے دیمک زدہ گتے کے پیچھے انتظار

    تیرگی کیسے مٹے گی تیری نصرت کے بغیر

    آسماں کی سیڑھیوں سے نقرئی فوجیں اتار

    آخر شب سب ستارے سو رہے ہیں بے خبر

    کوئی سورج کو خبر کر دو کہ اب شب خون مار

    پھیلتا جاتا ہے کرنوں کا سنہری جال پھر

    جگمگا اٹھی ہیں شمشیریں قطار اندر قطار

    جانے کس کو ڈھونڈنے داخل ہوا ہے جسم میں

    ہڈیوں میں راستہ کرتا ہوا پیلا بخار

    جسم کی مٹی نہ لے جائے بہا کر ساتھ میں

    دل کی گہرائی میں گرتا خواہشوں کا آبشار

    مأخذ :
    • کتاب : Hashr ki subh darakhshaz ho (Pg. 242)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے