ایک کہانی ختم ہوئی ہے ایک کہانی باقی ہے

کمار پاشی

ایک کہانی ختم ہوئی ہے ایک کہانی باقی ہے

کمار پاشی

MORE BYکمار پاشی

    ایک کہانی ختم ہوئی ہے ایک کہانی باقی ہے

    میں بے شک مسمار ہوں لیکن میرا ثانی باقی ہے

    دشت جنوں کی خاک اڑانے والوں کی ہمت دیکھو

    ٹوٹ چکے ہیں اندر سے لیکن من مانی باقی ہے

    ہاتھ مرے پتوار بنے ہیں اور لہریں کشتی میری

    زور ہوا کا قائم ہے دریا کی روانی باقی ہے

    گاہے گاہے اب بھی چلے جاتے ہیں ہم اس کوچے میں

    ذہن بزرگی اوڑھ چکا دل کی نادانی باقی ہے

    کچھ غزلیں ان زلفوں پر ہیں کچھ غزلیں ان آنکھوں پر

    جانے والے دوست کی اب اک یہی نشانی باقی ہے

    نئی نئی آوازیں ابھریں پاشیؔ اور پھر ڈوب گئیں

    شہر سخن میں لیکن اک آواز پرانی باقی ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    ایک کہانی ختم ہوئی ہے ایک کہانی باقی ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے