ایک مشکل سی بہر طور بنی ہوتی ہے

عباس تابش

ایک مشکل سی بہر طور بنی ہوتی ہے

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    ایک مشکل سی بہر طور بنی ہوتی ہے

    تجھ سے باز آئیں تو پھر خود سے ٹھنی ہوتی ہے

    کچھ تو لے بیٹھتی ہے اپنی شکستہ پائی

    اور کچھ راہ میں چھاؤں بھی گھنی ہوتی ہے

    میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو

    سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے

    آبلہ پائی بھی ہوتی ہے مقدر اپنا

    سر پہ افلاک کی چادر بھی تنی ہوتی ہے

    دودھ کی نہر نکالی ہے غموں سے ہم نے

    ہم بتا سکتے ہیں کیا کوہ کنی ہوتی ہے

    آنکھ تو کھلتی ہے کرنوں کی طلب میں لیکن

    زیب مژگاں کسی نیزے کی انی ہوتی ہے

    دشت غربت ہی پہ موقوف نہیں ہے تابشؔ

    اب تو گھر میں بھی غریب الوطنی ہوتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Ishq Abaad (kulliyat) (Pg. 101)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    speakNow