گردش کی رقابت سے جھگڑے کے لیے تھا

حنیف ترین

گردش کی رقابت سے جھگڑے کے لیے تھا

حنیف ترین

MORE BYحنیف ترین

    گردش کی رقابت سے جھگڑے کے لیے تھا

    جو عہد مرا تتلی پکڑنے کے لیے تھا

    جس کے لیے صدیاں کئی تاوان میں دی ہیں

    وہ لمحہ تو مٹی میں جکڑنے کے لیے تھا

    حالات نے کی جان کے جب دست درازی

    ہر صلح کا پہلو ہی جھگڑنے کے لیے تھا

    منہ زوریاں کیوں مجھ سے سزا وار تھیں اس کو

    پھیلاؤ جہاں اس کا سکڑنے کے لیے تھا

    قربان تھیں بالیدگیاں نخل طلب پر

    کیا جوش نمو آپ اکھڑنے کے لیے تھا

    پانی نے جسے دھوپ کی مٹی سے بنایا

    وہ دائرہ ربط بگڑنے کے لیے تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY