حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے

افتخار عارف

حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے

افتخار عارف

MORE BYافتخار عارف

    حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے

    ہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے

    اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا

    اس بار تو ہم شہہ کے مصاحب بھی نہیں تھے

    بیچ آئے سر قریۂ زر جوہر پندار

    جو دام ملے ایسے مناسب بھی نہیں تھے

    مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

    وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

    لو دیتی ہوئی رات سخن کرتا ہوا دن

    سب اس کے لیے جس سے مخاطب بھی نہیں تھے

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    افتخار عارف

    حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے افتخار عارف

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY