ہے اور بات بہت میری بات سے آگے

ظفر اقبال

ہے اور بات بہت میری بات سے آگے

ظفر اقبال

MORE BY ظفر اقبال

    ہے اور بات بہت میری بات سے آگے

    زمین ذرہ ہے اس کائنات سے آگے

    اک اور سلسلۂ حادثات ہے روشن

    اس ایک سلسلۂ حادثات سے آگے

    ہوائے عکس بہار و خزاں نہیں ہے فقط

    اگر نگاہ کرو پھول پات سے آگے

    یہ ہم جو پیٹ سے ہی سوچتے ہیں شام و سحر

    کبھی تو جائیں گے اس دال بھات سے آگے

    کچھ اور طرح کے اطراف منتظر ہیں کہیں

    اٹھائیں زحمت اگر شش جہات سے آگے

    نہ روک پائے تغیر کی تیز طغیانی

    جو بند باندھنے آئے ثبات سے آگے

    کنویں میں بیٹھ کے ہی ٹرٹرا گئے کچھ دن

    نظر پڑا نہیں کچھ اپنی ذات سے آگے

    اس آب و رنگ سے باہر بھی اک تماشا ہے

    چلے چلو جو نظر کی صفات سے آگے

    ظفرؔ یہ دن تو نتیجہ ہے رات کا یکسر

    کچھ اور ڈھونڈتا رہتا ہوں رات سے آگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY