ہے راہ رو کے ہوئے حادثات کی دیوار

حنیف کیفی

ہے راہ رو کے ہوئے حادثات کی دیوار

حنیف کیفی

MORE BYحنیف کیفی

    ہے راہ رو کے ہوئے حادثات کی دیوار

    گرائے کون یہ گرد حیات کی دیوار

    سحر ہمارے مقدر سے دور ہوتی گئی

    بلند ہوتی گئی روز رات کی دیوار

    مٹے جو یہ حد فاصل تو آپ تک پہنچیں

    ہمارے بیچ میں حائل ہے ذات کی دیوار

    انا انا کے مقابل ہے راہ کیسے کھلے

    تعلقات میں حائل ہے بات کی دیوار

    نہ جانے کون سے جھونکے میں گر پڑے کیفیؔ

    شکستہ ہونے لگی ہے حیات کی دیوار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY