ہم ترے حسن جہاں تاب سے ڈر جاتے ہیں

عباس رضوی

ہم ترے حسن جہاں تاب سے ڈر جاتے ہیں

عباس رضوی

MORE BYعباس رضوی

    ہم ترے حسن جہاں تاب سے ڈر جاتے ہیں

    ایسے مفلس ہیں کہ اسباب سے ڈر جاتے ہیں

    خوف ایسا ہے کہ دنیا کے ستائے ہوئے لوگ

    کبھی منبر کبھی محراب سے ڈر جاتے ہیں

    رات کے پچھلے پہر نیند میں چلتے ہوئے لوگ

    خون ہوتے ہوئے مہتاب سے ڈر جاتے ہیں

    شاد رہتے ہیں اسی جامۂ عریانی میں

    ہاں مگر اطلس و کمخواب سے ڈر جاتے ہیں

    کبھی کرتے ہیں مبارز طلبی دنیا سے

    اور کبھی خواہش بے تاب سے ڈر جاتے ہیں

    جی تو کہتا ہے کہ چلئے اسی کوچے کی طرف

    ہم تری بزم کے آداب سے ڈر جاتے ہیں

    ہم تو وہ ہیں کہ جنہیں راس نہیں کوئی نگر

    کبھی ساحل کبھی گرداب سے ڈر جاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY