ہم اس کو بھول بیٹھے ہیں اندھیرے ہم پہ طاری ہیں

عزیز انصاری

ہم اس کو بھول بیٹھے ہیں اندھیرے ہم پہ طاری ہیں

عزیز انصاری

MORE BYعزیز انصاری

    ہم اس کو بھول بیٹھے ہیں اندھیرے ہم پہ طاری ہیں

    مگر اس کے کرم کے سلسلے دنیا پہ جاری ہیں

    کریں یہ سیر کاروں میں کہ اڑ لیں یہ جہازوں میں

    فرشتہ موت کا کہتا ہے یہ میری سواری ہیں

    نہ ان کے قول ہی سچے نہ ان کے تول ہی سچے

    یہ کیسے دیش کے تاجر ہیں کیسے بیوپاری ہیں

    ہماری مفلسی آوارگی پہ تم کو حیرت کیوں

    ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ سوغاتیں تمہاری ہیں

    نسب کے خون کے رشتے ہوں یا پینے پلانے کے

    کلائی پر بندھے دھاگے کے رشتے سب پہ بھاری ہیں

    یہ اپنی بے بسی ہے یا کہ اپنی بے حسی یارو

    ہے اپنا ہاتھ ان کے سامنے جو خود بھکاری ہیں

    ہمیں بھی دیکھ لے دنیا کی رونق دیکھنے والے

    تری آنکھوں میں جو آنکھیں ہیں وہ آنکھیں ہماری ہیں

    عزیز ناتواں کے سامنے کہسار غم ہلکا

    مگر احسان کے تنکے ازل سے ان پہ بھاری ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عزیز انصاری

    عزیز انصاری

    RECITATIONS

    عزیز انصاری

    عزیز انصاری

    عزیز انصاری

    ہم اس کو بھول بیٹھے ہیں اندھیرے ہم پہ طاری ہیں عزیز انصاری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY