ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

مجروح سلطانپوری

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

مجروح سلطانپوری

MORE BYمجروح سلطانپوری

    ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

    نگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہے

    تو اے بہار گریزاں کسی چمن میں رہے

    مرے جنوں کی مہک تیرے پیرہن میں رہے

    مجھے نہیں کسی اسلوب شاعری کی تلاش

    تری نگاہ کا جادو مرے سخن میں رہے

    نہ ہم قفس میں رکے مثل بوئے گل صیاد

    نہ ہم مثال صبا حلقۂ رسن میں رہے

    کھلے جو ہم تو کسی شوخ کی نظر میں کھلے

    ہوئے گرہ تو کسی زلف کی شکن میں رہے

    سرشک رنگ نہ بخشے تو کیوں ہو بار مژہ

    لہو حنا نہیں بنتا تو کیوں بدن میں رہے

    ہجوم دہر میں بدلی نہ ہم سے وضع خرام

    گری کلاہ ہم اپنے ہی بانکپن میں رہے

    یہ حکم ہے رہے مٹھی میں بند سیل نسیم

    یہ ضد ہے بحر تپاں کوزۂ کہن میں رہے

    زباں ہماری نہ سمجھا یہاں کوئی مجروحؔ

    ہم اجنبی کی طرح اپنے ہی وطن میں رہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    شکیل جمالی

    شکیل جمالی

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    نعمان شوق

    ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY