ہر لمحہ دل دوز خموشی چیخ رہی ہے

جمال اویسی

ہر لمحہ دل دوز خموشی چیخ رہی ہے

جمال اویسی

MORE BYجمال اویسی

    ہر لمحہ دل دوز خموشی چیخ رہی ہے

    میں ہوں جہاں تنہائی میری چیخ رہی ہے

    گھر کے سب دروازے کیوں دیوار ہوئے ہیں

    گھر سے باہر دنیا ساری چیخ رہی ہے

    خالی آنکھیں سلگ رہی ہیں خشک ہیں آنسو

    اندر اندر دل کی اداسی چیخ رہی ہے

    طوفانوں نے سارے خیمے توڑ دئیے ہیں

    یوں لگتا ہے ساری خدائی چیخ رہی ہے

    رات کی چیخوں سے آباد ہوا ہر خطہ

    کب سے نوید صبح بچاری چیخ رہی ہے

    کاروبار نہ کرنا لوگو دیکھو دل ہے

    اک مدت سے روح ہماری چیخ رہی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY