ہر سو جہاں میں شام و سحر ڈھونڈتے ہیں ہم

عاجز ماتوی

ہر سو جہاں میں شام و سحر ڈھونڈتے ہیں ہم

عاجز ماتوی

MORE BYعاجز ماتوی

    ہر سو جہاں میں شام و سحر ڈھونڈتے ہیں ہم

    جو دل میں گھر کرے وہ نظر ڈھونڈتے ہیں ہم

    ان بستیوں کو پھونک کے خود اپنے ہاتھ سے

    اپنے نگر میں اپنا وہی گھر ڈھونڈتے ہیں ہم

    جز ریگ زار کچھ بھی نہیں تا حد نگاہ

    صحرا میں سایہ دار شجر ڈھونڈتے ہیں ہم

    تسلیم ہے کہ جڑتا نہیں ہے شکستہ دل

    پھر بھی دکان آئینہ گر ڈھونڈتے ہیں ہم

    جس کی ادا ادا پہ ہو انسانیت کو ناز

    مل جائے کاش ایسا بشر ڈھونڈتے ہیں ہم

    کچھ امتیاز مذہب و ملت نہیں ہمیں

    اک معتبر رفیق سفر ڈھونڈتے ہیں ہم

    اس دور میں جو فن کو ہمارے پرکھ سکے

    وہ صاحب زبان و نظر ڈھونڈتے ہیں ہم

    ہاتھ آئے گا نہ کچھ بھی بجز سنگ بے بساط

    اتھلے سمندروں میں گہر ڈھونڈتے ہیں ہم

    عاجزؔ تلاش شمع میں پروانے محو ہیں

    حیرت انہیں ہے ان کو اگر ڈھونڈتے ہیں ہم

    مآخذ :
    • کتاب : mahbas-e-gham (Pg. 47)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY