حرف کن شہ رگ ہو میں گم ہے

شاہد کمال

حرف کن شہ رگ ہو میں گم ہے

شاہد کمال

MORE BYشاہد کمال

    حرف کن شہ رگ ہو میں گم ہے

    اک جہاں ذوق نمو میں گم ہے

    اپنے ہی حسن کا عکاس ہے حسن

    آئنہ آئنہ رو میں گم ہے

    کیف آمیز ہے کیفیت حال

    نشۂ مے کہ سبو میں گم ہے

    درد چیخ اٹھتا ہے سینے میں کوئی

    زخم جیسے کہ لہو میں گم ہے

    تیر مت دیکھ مرے زخم کو دیکھ

    یار یار اپنا عدو میں گم ہے

    کھول مت بند قبا رہنے دے

    چاک دامان رفو میں گم ہے

    نافۂ آہوئے تاتار ہے عشق

    بوئے گل اپنی ہی بو میں گم ہے

    خاک اڑتی ہے سر ساحل جو

    تشنگی نہر گلو میں گم ہے

    یہ بھی کیا خود ہے کہ خود میں بھی نہیں

    یہ بھی کیا میں ہے کہ تو میں گم ہے

    مست ہوں اپنی انا میں میں بھی

    اور وہ اپنی ہی خو میں گم ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY