ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے

عباس تابش

ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے

    کہ نخل خشک پہ ماہ تمام آخری ہے

    میں جس سکون سے بیٹھا ہوں اس کنارے پر

    سکوں سے لگتا ہے میرا قیام آخری ہے

    پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگنا

    خرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے

    گزر چلا ہوں کسی کو یقیں دلاتا ہوا

    کہ لوح دل پہ رقم ہے جو نام آخری ہے

    تبھی تو پیڑ کی آنکھوں میں چاند بھر آیا

    کسی نے کہہ دیا ہوگا کہ شام آخری ہے

    یہ لگ رہا ہے محبت کے پہلے زینے پر

    کہ جس مقام پہ ہوں یہ مقام آخری ہے

    کسی نے پھر سے کھڑے کر دیے در و دیوار

    خیال تھا کہ مرا انہدام آخری ہے

    ہمارے جیسے وہاں کس شمار میں ہوں گے

    کہ جس قطار میں مجنوں کا نام آخری ہے

    شروع عشق میں ایسی اداسیاں تابشؔ

    ہر ایک شام یہ لگتا ہے شام آخری ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Ishq Abaad (kulliyat) (Pg. 481)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے