ہوا نے اسم کچھ ایسا پڑھا تھا

دلاور علی آزر

ہوا نے اسم کچھ ایسا پڑھا تھا

دلاور علی آزر

MORE BYدلاور علی آزر

    ہوا نے اسم کچھ ایسا پڑھا تھا

    دیا دیوار پر چلنے لگا تھا

    میں سحر خواب سے اٹھا تو دیکھا

    کوئی کھڑکی میں سورج رکھ گیا تھا

    کھڑا تھا منتظر دہلیز پر میں

    مجھے اک سایہ ملنے آ رہا تھا

    ترے آنے سے یہ عقدہ کھلا ہے

    میں اپنے آپ میں رکھا ہوا تھا

    سبھی لفظوں سے تصویریں بنائیں

    مری پوروں میں منظر رینگتا تھا

    مجھے تیرے ارادوں کی خبر تھی

    سو گہری نیند میں بھی جاگتا تھا

    میں جب میدان خالی کر کے آیا

    مرا دشمن اکیلا رہ گیا تھا

    سبھی کے ہاتھ میں پتھر تھے آذرؔ

    ہمارے ہاتھ میں اک آئینا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY