ہزاروں آرزوئیں ساتھ ہیں اس پر اکیلی ہے

شاد عظیم آبادی

ہزاروں آرزوئیں ساتھ ہیں اس پر اکیلی ہے

شاد عظیم آبادی

MORE BY شاد عظیم آبادی

    ہزاروں آرزوئیں ساتھ ہیں اس پر اکیلی ہے

    ہماری روح بے بوجھی ہوئی اب تک پہیلی ہے

    بڑھاپا ہو تو ہو اس ربط میں کیوں کر خلل آئے

    مری یاس و تمنا بچپنے سے ساتھ کھیلی ہے

    اجل بھی ٹل گئی دیکھی گئی حالت نہ آنکھوں سے

    شب غم میں مصیبت سی مصیبت ہم نے جھیلی ہے

    عدم کا تھا سفر جب اور کچھ توشہ نہ ہاتھ آیا

    بہت سی آرزو چلتے چلاتے ساتھ لے لی ہے

    ذرا دیکھو تو ان اترے ہوئے چہروں کو پھولوں کے

    معاذ اللہ جھونکا ہے خزاں کا یا کہ سیلی ہے

    کبھی جمنے نہ دیتی بے خودی خاطر پہ نقش ان کا

    بہ مشکل میں نے یہ تصویر اسی عیار سے لی ہے

    ہماری اور گلوں کی ایک ہے نشوونما لیکن

    وہاں مٹھی میں زر ہے اور یہاں خالی ہتھیلی ہے

    نہ پوچھو شادؔ ویرانی کو دل کی کیا بتاؤں میں

    تمنا جا چکی حسرت غریب اس میں اکیلی ہے

    مآخذ:

    • Book: Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 316)
    • Author: Shad Azimabadi
    • مطبع: Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت: 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites