ہزاروں منزلیں پھر بھی مری منزل ہے تو ہی تو

امیتا پرسو رام میتا

ہزاروں منزلیں پھر بھی مری منزل ہے تو ہی تو

امیتا پرسو رام میتا

MORE BYامیتا پرسو رام میتا

    ہزاروں منزلیں پھر بھی مری منزل ہے تو ہی تو

    محبت کے سفر کا آخری حاصل ہے تو ہی تو

    بلا سے کتنے ہی طوفاں اٹھے بحر محبت میں

    ہر اک دھڑکن یہ کہتی ہے مرا ساحل ہے تو ہی تو

    مجھے معلوم ہے انجام کیا ہوگا محبت کا

    مسیحا تو ہی تو ہے اور مرا قاتل ہے تو ہی تو

    کیا افشا محبت کو مری بے باک نظروں نے

    زمانے کو خبر ہے مجھ سے بس غافل ہے تو ہی تو

    ترے بخشے ہوئے رنگوں سے ہے پر نور ہر منظر

    یقیناً بحر و بر کی روح میں شامل ہے تو ہی تو

    تجھی سے گفتگو ہر دم تری ہی جستجو ہر دم

    مری آسانیاں تجھ سے مری مشکل ہے تو ہی تو

    جدھر جاؤں جدھر دیکھوں ترے قصے تری باتیں

    سر محفل ہے تو ہی تو پس محمل ہے تو ہی تو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY