ہونے کو یوں تو شہر میں اپنا مکان تھا

عادل منصوری

ہونے کو یوں تو شہر میں اپنا مکان تھا

عادل منصوری

MORE BYعادل منصوری

    ہونے کو یوں تو شہر میں اپنا مکان تھا

    نفرت کا ریگزار مگر درمیان تھا

    لمحے کے ٹوٹنے کی صدا سن رہا تھا میں

    جھپکی جو آنکھ سر پہ نیا آسمان تھا

    کہنے کو ہاتھ باندھے کھڑے تھے نماز میں

    پوچھو تو دوسری ہی طرف اپنا دھیان تھا

    اللہ جانے کس پہ اکڑتا تھا رات دن

    کچھ بھی نہیں تھا پھر بھی بڑا بد زبان تھا

    شعلے اگلتے تیر برستے تھے چرخ سے

    سایہ تھا پاس میں نہ کوئی سائبان تھا

    سب سے کیا ہے وصل کا وعدہ الگ الگ

    کل رات وہ سبھی پہ بہت مہربان تھا

    منہ پھٹ تھا بے لگام تھا رسوا تھا ڈھیٹ تھا

    جیسا بھی تھا وہ دوستو محفل کی جان تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    ہونے کو یوں تو شہر میں اپنا مکان تھا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے