ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا

مرزا غالب

ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا

مرزا غالب

MORE BY مرزا غالب

    ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا

    آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

    تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ

    اس میں کچھ شائبۂ خوبی تقدیر بھی تھا

    تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں

    کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا

    قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد

    ہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا

    بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا

    بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا

    یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی

    گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا

    دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا

    نالہ کرتا تھا ولے طالب تاثیر بھی تھا

    پیشہ میں عیب نہیں رکھیے نہ فرہاد کو نام

    ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا

    ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہی

    آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا

    پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق

    آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ

    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فریدہ خانم

    فریدہ خانم

    مآخذ:

    • Book : Deewan-e-Ghalib Jadeed (Al-Maroof Ba Nuskha-e-Hameedia) (Pg. 194)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY