اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیا

کیف احمد صدیقی

اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیا

کیف احمد صدیقی

MORE BYکیف احمد صدیقی

    اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیا

    لیکن وہ اپنے ساتھ مرا زہر لے گیا

    اکثر بدن کی قید سے آزاد ہو کے بھی

    اپنا ہی عکس دور سے میں دیکھنے گیا

    دنیا کا ہر لباس پہننا پڑا اسے

    اک شخص جب نکل کے مرے جسم سے گیا

    ایسی جگہ کہ موت بھی ڈر جائے دیکھ کر

    میں خود کو زندگی سے بہت دور لے گیا

    محسوس ہو رہا ہے کہ میں خود سفر میں ہوں

    جس دن سے ریل پر میں تجھے چھوڑنے گیا

    کتنی سبک سی آج مرے گھر کی شام تھی

    میں فائلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے گیا

    اشعار کا نزول ہے خالی دماغ میں

    اے کیفؔ تو نہ جانے کہاں چھوڑنے گیا

    مآخذ :
    • کتاب : shab khuun (50) (rekhta website) (Pg. 59)
    • اشاعت : 1970

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY