عشق آباد فقیروں کی ادا رکھتے ہیں

نجیب احمد

عشق آباد فقیروں کی ادا رکھتے ہیں

نجیب احمد

MORE BYنجیب احمد

    عشق آباد فقیروں کی ادا رکھتے ہیں

    اور کیا اس کے سوا اہل انا رکھتے ہیں

    ہم تہی دست کچھ ایسے بھی تہی دست نہیں

    کچھ نہیں رکھتے مگر پاس وفا رکھتے ہیں

    زندگی بھر کی کمائی یہ تعلق ہی تو ہے

    کچھ بچے یا نہ بچے اس کو بچا رکھتے ہیں

    شعر میں پھوٹتے ہیں اپنی زباں کے چھالے

    نطق رکھتے ہیں مگر سب سے جدا رکھتے ہیں

    ہم نہیں صاحب تکریم تو حیرت کیسی

    سر پہ دستار نہ پیکر پہ عبا رکھتے ہیں

    شہر آواز کی جھلمل سے دمک اٹھیں گے

    شب خاموش کی رخ شمع نوا رکھتے ہیں

    اک تری یاد گلے ایسے پڑی ہے کہ نجیبؔ

    آج کا کام بھی ہم کل پہ اٹھا رکھتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 12.12.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY