جان مقدر میں تھی جان سے پیارا نہ تھا

شہزاد احمد

جان مقدر میں تھی جان سے پیارا نہ تھا

شہزاد احمد

MORE BYشہزاد احمد

    جان مقدر میں تھی جان سے پیارا نہ تھا

    میرے لیے صبح تھی صبح کا تارا نہ تھا

    بحر شب و روز میں بہہ گئے تنکے سے ہم

    موج بلا خیز تھی اور کنارا نہ تھا

    جان کے دشمن تھے سب لوگ ترے شہر کے

    عمر کٹی جس جگہ پل بھی گزارا نہ تھا

    سرد رہی عمر بھر انجمن آرزو

    خار و خس شوق میں کوئی شرارہ نہ تھا

    کس کے لیے جاگتے کس کی طرف بھاگتے

    اتنے بڑے شہر میں کوئی ہمارا نہ تھا

    شوق سفر بے سبب اور سفر بے طلب

    اس کی طرف چل دیے جس نے پکارا نہ تھا

    دور سہی منزلیں اب نہ رہیں ہمتیں

    ٹوٹ گئے پائے شوق دل ابھی ہارا نہ تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Deewar pe dastak (Pg. 27)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے