جلنے لگے خلا میں ہواؤں کے نقش پا

عادل منصوری

جلنے لگے خلا میں ہواؤں کے نقش پا

عادل منصوری

MORE BYعادل منصوری

    جلنے لگے خلا میں ہواؤں کے نقش پا

    سورج کا ہاتھ شام کی گردن پہ جا پڑا

    چھت پر پگھل کے جم گئی خوابوں کی چاندنی

    کمرے کا درد ہانپتے سایوں کو کھا گیا

    بستر میں ایک چاند تراشا تھا لمس نے

    اس نے اٹھا کے چائے کے کپ میں ڈبو دیا

    ہر آنکھ میں تھی ٹوٹتے لمحوں کی تشنگی

    ہر جسم پہ تھا وقت کا سایہ پڑا ہوا

    دیکھا تھا سب نے ڈوبنے والے کو دور دور

    پانی کی انگلیوں نے کنارے کو چھو لیا

    آئے گی رات منہ پہ سیاہی ملے ہوئے

    رکھ دے گا دن بھی ہاتھ میں کاغذ پھٹا ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے