جو سیل درد اٹھا تھا وہ جان چھوڑ گیا

ریاض مجید

جو سیل درد اٹھا تھا وہ جان چھوڑ گیا

ریاض مجید

MORE BYریاض مجید

    جو سیل درد اٹھا تھا وہ جان چھوڑ گیا

    مگر وجود پہ اپنا نشان چھوڑ گیا

    ہر ایک چیز میں خوشبو ہے اس کے ہونے کی

    عجب نشانیاں وہ میہمان چھوڑ گیا

    نہ ساتھ رہنے کا وعدہ اگر کیا پورا

    زمیں کا ساتھ اگر آسمان چھوڑ گیا

    ذرا سی دیر کو بیٹھا جھکا گیا شاخیں

    پرندہ پیڑ میں اپنی تھکان چھوڑ گیا

    وہ واقعہ مرا کردار ابھرتا تھا جس میں

    کہانی کار اسی کا بیان چھوڑ گیا

    سمٹتی پھیلتی تنہائی سوتے جاگتے درد

    وہ اپنے اور مرے درمیان چھوڑ گیا

    بہت عزیز تھی نیند اس کو صبح کاذب کی

    سو اس کو سوتے ہوئے کاروان چھوڑ گیا

    رہا ریاضؔ اندھیروں میں نوحہ کرنے کو

    وہ آنکھیں نوچنے والا زبان چھوڑ گیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    جو سیل درد اٹھا تھا وہ جان چھوڑ گیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY