جو تنگ آ کر کسی دن دل پہ ہم کچھ ٹھان لیتے ہیں

شاد عظیم آبادی

جو تنگ آ کر کسی دن دل پہ ہم کچھ ٹھان لیتے ہیں

شاد عظیم آبادی

MORE BY شاد عظیم آبادی

    جو تنگ آ کر کسی دن دل پہ ہم کچھ ٹھان لیتے ہیں

    ستم دیکھو کہ وہ بھی چھوٹتے پہچان لیتے ہیں

    بہ قدر حوصلہ صحرائے وحشت چھان لیتے ہیں

    مسافر ہیں سفر کے واسطے سامان لیتے ہیں

    خدا چاہے تو اب کے قتل گہہ میں مشکل آساں ہو

    ترے بیمار ناحق موت کا احسان لیتے ہیں

    کہیں مرقد پہ جاتے ہیں کہیں گھر تک نہیں جاتے

    کسی کو جان دیتے ہیں کسی کی جان لیتے ہیں

    کدورت تاکہ رہ جائے سب اپنے دامن تر میں

    شراب شوق ہم پینے کے پہلے چھان لیتے ہیں

    ہماری شاعری زندہ ہوئی اے شادؔ مرنے پر

    کہ شائق نقد جاں دے دے کے اب دیوان لیتے ہیں

    مآخذ:

    • Book: Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 237)
    • Author: Shad Azimabadi
    • مطبع: Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت: 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites