کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارا

شاد عظیم آبادی

کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارا

شاد عظیم آبادی

MORE BY شاد عظیم آبادی

    کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارا

    یا رب رہے آباد یہ ویرانہ ہمارا

    باطن کی طرح پاک ہے خم خانہ ہمارا

    کیوں کر نہ اچھوتا رہے پیمانہ ہمارا

    جو شمع ہوا کرتی ہے روشن سر بازار

    اس شمع پہ گرتا نہیں پروانہ ہمارا

    ساقی ترا مے خانہ رہے حشر تک آباد

    بھر جاتا ہے کشکول گدایانہ ہمارا

    بہہ جائے گا اس بزم میں اک فیض کا دریا

    آتا ہے چھلکتا ہوا پیمانہ ہمارا

    چل سوئے عدم چل ہمیں کیا عذر ہے اے موت

    تیار ہے سامان غریبانہ ہمارا

    بن جاتا ہے پھر شیخ کا بھی مرشد کامل

    ڈگتا نہیں پیتا ہے جو پیمانہ ہمارا

    کس زلف کو سلجھائیں رقیبان سیہ کار

    چھوتا نہیں اس زلف کو پھر شانہ ہمارا

    فریاد کناں ہیں کسی پازیب کے دانے

    توڑے کہیں زنجیر نہ دیوانہ ہمارا

    خاروں سے یہ کہہ دو کہ گل تر سے نہ الجھیں

    سیکھے کوئی انداز شریفانہ ہمارا

    تاثیر نہ ہو شادؔ تو دینا ہمیں الزام

    کچھ دیر تو سن واعظ حکیمانہ ہمارا

    مآخذ:

    • Book : Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 85)
    • Author : Shad Azimabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY