aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کہیں نہ تھا وہ دریا جس کا ساحل تھا میں

شارق کیفی

کہیں نہ تھا وہ دریا جس کا ساحل تھا میں

شارق کیفی

MORE BYشارق کیفی

    کہیں نہ تھا وہ دریا جس کا ساحل تھا میں

    آنکھ کھلی تو اک صحرا کے مقابل تھا میں

    حاصل کر کے تجھ کو اب شرمندہ سا ہوں

    تھا اک وقت کہ سچ مچ تیرے قابل تھا میں

    کس احساس جرم کی سب کرتے ہیں توقع

    اک کردار کیا تھا جس میں قاتل تھا میں

    کون تھا وہ جس نے یہ حال کیا ہے میرا

    کس کو اتنی آسانی سے حاصل تھا میں

    ساری توجہ دشمن پر مرکوز تھی میری

    اپنی طرف سے تو بالکل ہی غافل تھا میں

    جن پر میں تھوڑا سا بھی آسان ہوا ہوں

    وہی بتا سکتے ہیں کتنا مشکل تھا میں

    نیند نہیں آتی تھی سازش کے دھڑکے میں

    فاتح ہو کر بھی کس درجہ بزدل تھا میں

    گھر میں خود کو قید تو میں نے آج کیا ہے

    تب بھی تنہا تھا جب محفل محفل تھا میں

    RECITATIONS

    شارق کیفی

    شارق کیفی,

    شارق کیفی

    کہیں نہ تھا وہ دریا جس کا ساحل تھا میں شارق کیفی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے