کہنے کو شمع بزم زمان و مکاں ہوں میں

عمیق حنفی

کہنے کو شمع بزم زمان و مکاں ہوں میں

عمیق حنفی

MORE BYعمیق حنفی

    کہنے کو شمع بزم زمان و مکاں ہوں میں

    سوچو تو صرف کشتۂ دور جہاں ہوں میں

    آتا ہوں میں زمانے کی آنکھوں میں رات دن

    لیکن خود اپنی نظروں سے اب تک نہاں ہوں میں

    جاتا نہیں کناروں سے آگے کسی کا دھیان

    کب سے پکارتا ہوں یہاں ہوں یہاں ہوں میں

    اک ڈوبتے وجود کی میں ہی پکار ہوں

    اور آپ ہی وجود کا اندھا کنواں ہوں میں

    سگریٹ جسے سلگتا ہوا کوئی چھوڑ دے

    اس کا دھواں ہوں اور پریشاں دھواں ہوں میں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کہنے کو شمع بزم زمان و مکاں ہوں میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY