کس کر باندھی گئی رگوں میں دل کی گرہ تو ڈھیلی ہے

عباس تابش

کس کر باندھی گئی رگوں میں دل کی گرہ تو ڈھیلی ہے

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    کس کر باندھی گئی رگوں میں دل کی گرہ تو ڈھیلی ہے

    اس کو دیکھ کے جی بھر آنا کتنی بڑی تبدیلی ہے

    زندہ رہنے کی خواہش میں دم دم لو دے اٹھتا ہوں

    مجھ میں سانس رگڑ کھاتی ہے یا ماچس کی تیلی ہے

    ان آنکھوں میں کودنے والو تم کو اتنا دھیان رہے

    وہ جھیلیں پایاب ہیں لیکن ان کی تہہ پتھریلی ہے

    کتنی صدیاں سورج چمکا کتنے دوزخ آگ جلی

    مجھے بنانے والے میری مٹی اب تک گیلی ہے

    زندہ ہوں تو مجھے بتائیں نیلے ہونٹوں والے لوگ

    میرا کیسا رنگ کرے گی بات جو میں نے پی لی ہے

    ممکن ہے اب وقت کی چادر پر میں کروں رفو کا کام

    جوتے میں نے گانٹھ لیے ہیں گدڑی میں نے سی لی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Ishq Abaad (kulliyat) (Pg. 411)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے