خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا

ظفر اقبال

خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا

    کہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کا

    چمک اٹھے ہیں جو دل کے کلس یہاں سے ابھی

    گزر ہوا ہے خیالوں کی دیو داسی کا

    گزر نہ جا یوں ہی رخ پھیر کر سلام تو لے

    ہمیں تو دیر سے دعوی ہے روشناسی کا

    خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا

    کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا

    گرے پڑے ہوئے پتوں میں شہر ڈھونڈتا ہے

    عجیب طور ہے اس جنگلوں کے باسی کا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY