کسی کا عکس بدن تھا نہ وہ شرارہ تھا

احمد محفوظ

کسی کا عکس بدن تھا نہ وہ شرارہ تھا

احمد محفوظ

MORE BYاحمد محفوظ

    کسی کا عکس بدن تھا نہ وہ شرارہ تھا

    تو میں نے خیمۂ شب سے کسے پکارا تھا

    کہاں کسی کو تھی فرصت فضول باتوں کی

    تمام رات وہاں ذکر بس تمہارا تھا

    مکاں میں کیا کوئی وحشی ہوا در آئی تھی

    تمام پیرہن خواب پارہ پارہ تھا

    اسی کو بار دگر دیکھنا نہیں تھا مجھے

    میں لوٹ آیا کہ منظر وہی دوبارہ تھا

    سبک سری نے گرانی عجیب کی دل پر

    ہے اب یہ بوجھ کہ وہ بوجھ کیوں اتارا تھا

    شب سیاہ سفر یہ بھی رائیگاں تو نہیں

    وہ کیا ہوا جو مرے ساتھ اک ستارہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY