کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہے

اجمل سراج

کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہے

اجمل سراج

MORE BYاجمل سراج

    کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہے

    کسے بتائیں ہمارا جو حال ہو گیا ہے

    کہیں گرا ہے نہ روندا گیا ہے دل پھر بھی

    شکستہ ہو گیا ہے پائمال ہو گیا ہے

    سحر جو آئی ہے شب کے تمام ہونے پر

    تو اس میں کون سا ایسا کمال ہو گیا ہے

    کوئی بھی چیز سلامت نہیں مگر یہ دل

    شکستگی میں جو اپنی مثال ہو گیا ہے

    ادھر چراغ جلے ہیں کسی دریچے میں

    ادھر وظیفۂ دل بحال ہو گیا ہے

    حیا کا رنگ جو آیا ہے اس کے چہرے پر

    یہ رنگ حاصل شام وصال ہو گیا ہے

    مسافت شب ہجراں میں چاند بھی اجملؔ

    تھکن سے چور غموں سے نڈھال ہو گیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے