کوئی بھولی ہوئی شے طاق ہر منظر پہ رکھی تھی

راجیندر منچندا بانی

کوئی بھولی ہوئی شے طاق ہر منظر پہ رکھی تھی

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    کوئی بھولی ہوئی شے طاق ہر منظر پہ رکھی تھی

    ستارے چھت پہ رکھے تھے شکن بستر پہ رکھی تھی

    لرز جاتا تھا باہر جھانکنے سے اس کا تن سارا

    سیاہی جانے کن راتوں کی اس کے در پہ رکھی تھی

    وہ اپنے شہر کے مٹتے ہوئے کردار پر چپ تھا

    عجب اک لاپتہ ذات اس کے اپنے سر پہ رکھی تھی

    کہاں کی سیر ہفت افلاک اوپر دیکھ لیتے تھے

    حسیں اجلی کپاسی برف بال و پر پہ رکھی تھی

    کوئی کیا جانتا کیا چیز کس پر بوجھ ہے بانیؔ

    ذرا سی اوس یوں تو سینۂ پتھر پہ رکھی تھی

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 170)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    speakNow