کوئی ہنگامہ سر بزم اٹھایا جائے

زہرا نگاہ

کوئی ہنگامہ سر بزم اٹھایا جائے

زہرا نگاہ

MORE BYزہرا نگاہ

    کوئی ہنگامہ سر بزم اٹھایا جائے

    کچھ کیا جائے چراغوں کو بجھایا جائے

    بھولنا خود کو تو آساں ہے بھلا بیٹھا ہوں

    وہ ستم گر جو نہ بھولے سے بھلایا جائے

    جس کے باعث ہیں یہ چہرے کی لکیریں مغموم

    غیرممکن ہے کہ منظر وہ دکھایا جائے

    شام خاموش ہے اور چاند نکل آیا ہے

    کیوں نہ اک نقش ہی پانی پہ بنایا جائے

    زخم ہنستے ہیں تو یہ فصل بہار آتی ہے

    ہاں اسی بات پہ پھر زخم لگایا جائے

    مأخذ :
    • کتاب : maazii ka aainda

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY