کوئی نہ چاہنے والا تھا حسن رسوا کا

وحید قریشی

کوئی نہ چاہنے والا تھا حسن رسوا کا

وحید قریشی

MORE BY وحید قریشی

    کوئی نہ چاہنے والا تھا حسن رسوا کا

    دیار غم میں رہا دل کو پاس دنیا کا

    فریب صبح بہاراں بھی ہے قبول ہمیں

    کوئی نقیب تو آیا پیام فردا کا

    ہم آج راہ تمنا میں جی کو ہار آئے

    نہ درد و غم کا بھروسا رہا نہ دنیا کا

    تری وفا نے دیا درس آگہی ہم کو

    ترے جنوں نے کیا کام چشم بینا کا

    الجھ کے رہ گئی ہر تان سے نوائے سروش

    طلسم ٹوٹ گیا حسن نغمہ پیرا کا

    شب فراق میں تارے گنے تو نیند آئی

    یہ حال ہو گیا آخر تمہارے شیدا کا

    وحیدؔ گرمئ اندیشہ نے غضب ڈھایا

    سلگ رہا ہے ابھی ہاتھ خامہ فرسا کا

    مآخذ:

    • کتاب : NUQOOSH (Yearly) (Pg. 189)
    • Author : Mohd. Fufail
    • مطبع : Idarah-e-Farogh-e-urdu, Lahore (Jan. Feb. 1957,Issue 61,62)
    • اشاعت : Jan. Feb. 1957,Issue 61,62

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY