کچھ حد بھی اے فلک ستم ناروا کی ہے

رسول جہاں بیگم مخفی بدایونی

کچھ حد بھی اے فلک ستم ناروا کی ہے

رسول جہاں بیگم مخفی بدایونی

MORE BYرسول جہاں بیگم مخفی بدایونی

    کچھ حد بھی اے فلک ستم ناروا کی ہے

    ہر سانس داستاں ترے جور و جفا کی ہے

    حاجت روا کی اور نہ ضرورت دعا کی ہے

    اب چھوڑ چارہ ساز جو مرضی خدا کی ہے

    دامان ضبط چاک تو کر دے جنوں مگر

    توہین یہ مرے دل غم آشنا کی ہے

    خون‌ حیات خون طرب خون آرزو

    یہ شرح مختصر مری عمر وفا کی ہے

    غیرت نے میری خود ہی سفینہ ڈبو دیا

    دیکھا نظر پھری ہوئی کچھ ناخدا کی ہے

    بربادیوں سے درس بقا لے رہی ہوں میں

    یہ سنت کہن شہ کرب و بلا کی ہے

    عرفان غم سے نفس کا عرفاں ہوا نصیب

    سیڑھی یہ پہلی معرفت کبریا کی ہے

    ہم سے خزاں نصیب قفس میں بھی شاد ہیں

    لائی جو بوئے گل یہ عنایت صبا کی ہے

    خودداریوں نے زیست کو آساں بنا دیا

    بیتابیوں کی خو ہے نہ آہ و بکا کی ہے

    مانا کہ تجھ کو عیش کی جنت نصیب ہے

    تحقیر غم نہ کر کہ یہ نعمت خدا کی ہے

    اس زندگی نے ساتھ کسی کا نہیں دیا

    کس بے وفا سے تجھ کو تمنا وفا کی ہے

    کشتی کو میری موجوں سے پہنچا نہیں گزر

    منت گداز یہ کرم ناخدا کی ہے

    مخفیؔ پناہ چادر زہرا نہ چھوڑنا

    تعلیم نو سنا ہے کہ دشمن حیا کی ہے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY