کچھ کام نہیں ہے یہاں وحشت کے برابر

ابرار احمد

کچھ کام نہیں ہے یہاں وحشت کے برابر

ابرار احمد

MORE BYابرار احمد

    کچھ کام نہیں ہے یہاں وحشت کے برابر

    سو تم ہمیں غم دو کوئی ہمت کے برابر

    کب لگتا ہے جی راہ سہولت میں ہمیشہ

    اور ملتا ہے کب رنج ضرورت کے برابر

    آسائش و آرام ہو یا جاہ و حشم ہو

    کیا چیز یہاں پر ہے محبت کے برابر

    گنجائش افسوس نکل آتی ہے ہر روز

    مصروف نہیں رہتا ہوں فرصت کے برابر

    بھر لائے ہیں ہم آنکھ میں رکھنے کو مقابل

    اک خواب تمنا تری غفلت کے برابر

    رکھ دیں گے ترے پاؤں میں ہم موج میں آ کر

    دنیا ہے کہاں جان کی قیمت کے برابر

    پھر کشمکش سود و زیاں کار زیاں ہے

    جب جیت بھی ٹھہری ہے ہزیمت کے برابر

    جینے میں جو احساس تفاخر ہے کہاں ہے

    جیتے چلے جانے کی ندامت کے برابر

    مآخذ
    • کتاب : Gaflat ke Barabar (Pg. 87)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY