کچھ نہیں سمجھا ہوں اتنا مختصر پیغام تھا

ظفر اقبال

کچھ نہیں سمجھا ہوں اتنا مختصر پیغام تھا

ظفر اقبال

MORE BY ظفر اقبال

    کچھ نہیں سمجھا ہوں اتنا مختصر پیغام تھا

    کیا ہوا تھی جس ہوا کے ہاتھ پر پیغام تھا

    اس کو آنا تھا کہ وہ مجھ کو بلاتا تھا کہیں

    رات بھر بارش تھی اس کا رات بھر پیغام تھا

    لینے والا ہی کوئی باقی نہیں تھا شہر میں

    ورنہ تو اس شام کوئی در بدر پیغام تھا

    منتظر تھی جیسے خود ہی تنکا تنکا آرزو

    خار و خس کے واسطے گویا شرر پیغام تھا

    کیا مسافر تھے کہ تھے رنج سفر سے بے نیاز

    آنے جانے کے لیے اک رہگزر پیغام تھا

    کوئی کاغذ ایک میلے سے لفافے میں تھا بند

    کھول کر دیکھا تو اس میں سر بہ سر پیغام تھا

    ہر قدم پر راستوں کے رنگ تھے بکھرے ہوئے

    چلنے والوں کے لیے اپنا سفر پیغام تھا

    کچھ صفت اس میں پرندوں اور پتوں کی بھی تھی

    کتنی شادابی تھی اور کیسا شجر پیغام تھا

    اور تو لایا نہ تھا پیغام ساتھ اپنے ظفرؔ

    جو بھی تھا اس کا یہی عیب و ہنر پیغام تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY