کیوں آنکھیں بند کر کے رستے میں چل رہا ہوں

عالم خورشید

کیوں آنکھیں بند کر کے رستے میں چل رہا ہوں

عالم خورشید

MORE BY عالم خورشید

    کیوں آنکھیں بند کر کے رستے میں چل رہا ہوں

    کیا میں بھی رفتہ رفتہ پتھر میں ڈھل رہا ہوں

    چاروں طرف ہیں شعلے ہم سایے جل رہے ہیں

    میں گھر میں بیٹھا بیٹھا بس ہاتھ مل رہا ہوں

    میرے دھوئیں سے میری ہر سانس گھٹ رہی ہے

    میں راہ کا دیا ہوں اور گھر میں جل رہا ہوں

    آنکھوں پہ چھا گیا ہے کوئی طلسم شاید

    پلکیں جھپک رہا ہوں منظر بدل رہا ہوں

    تبدیلیوں کا نشہ مجھ پر چڑھا ہوا ہے

    کپڑے بدل رہا ہوں چہرہ بدل رہا ہوں

    اس فیصلے سے خوش ہیں افراد گھر کے سارے

    اپنی خوشی سے کب میں گھر سے نکل رہا ہوں

    ان پتھروں پہ چلنا آ جائے گا مجھے بھی

    ٹھوکر تو کھا رہا ہوں لیکن سنبھل رہا ہوں

    کانٹوں پہ جب چلوں گا رفتار تیز ہوگی

    پھولوں بھری روش پر بچ بچ کے چل رہا ہوں

    چشمے کی طرح عالمؔ اشعار پھوٹتے ہیں

    کوہ گراں کی صورت میں بھی ابل رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY