لڑکھڑاتا ہوں کبھی خود ہی سنبھل جاتا ہوں

سرفراز نواز

لڑکھڑاتا ہوں کبھی خود ہی سنبھل جاتا ہوں

سرفراز نواز

MORE BYسرفراز نواز

    لڑکھڑاتا ہوں کبھی خود ہی سنبھل جاتا ہوں

    میں بھی رستوں کے ہی برتاؤ میں ڈھل جاتا ہوں

    منتیں مجھ سے کیا کرتے ہیں دریا آ کر

    اور میں پیاس چھپا کر کے نکل جاتا ہوں

    دن وراثت میں مجھے روشنی دے جاتا ہے

    وہ دیا ہوں کہ سر شام ہی جل جاتا ہوں

    چاک پہ آ کے نہیں چلتی ہے مرضی میری

    یہ بہت ہے جو کسی شکل میں ڈھل جاتا ہوں

    بے صدا سی کسی آواز کے پیچھے پیچھے

    چلتے چلتے میں بہت دور نکل جاتا ہوں

    آئینہ روز بھرم رکھتا ہے قائم میرا

    ورنہ یہ سچ ہے میں ہر روز بدل جاتا ہوں

    آج محفل سے تری اٹھا ہوں شاعر ہو کر

    تیری آنکھوں سے لئے ایک غزل جاتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے